Published On: Fri, May 13th, 2011

ہوئے تم دوست جسکے دشمن اس کا آسمان کیوںہو

Share This
Tags

احتشام الحق

پاکستان میں 2/کے سانحے کے بعد حالات نے کچھ اس طرح کا رخ اختیار کیا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر’تم ہمارے ساتھ ہو یا خلاف’کی اسی مکروہ پوزیشن پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں آج سے دس سال قبل امریکی غروروتکبر کی علامات ٹوئن ٹاورز کے انہدام کے فوری بعد تھا۔آج ہم اِس بات پر بحث نہیں کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف اس نام نہاد اور دراصل صلیبی جنگ میں ہمیں فرنٹ لائن سٹیٹ کا تمغہ سینے پر سجانے کا آخر کیا صلہ ملا ؟غضب خدا کا ایک ایسا ملک جس کا ہر پیدا ہونے والا بچہ بھی 61ہزار کے قرض میں جکڑا ہوتا ہے کے 45ارب ڈالر اس پرائی آگ میں جھونک دیئے گئے جو جذبہ جہاد سے سرشار افواجِ پاکستان کے جوانوں سمیت5ہزار بے گناہ مسلمانوں کو بھی نگل گئی۔الغرض پاکستان کی طرف سے اپنے آقا و مولیٰ امریکہ کی خوشنودی کیلئے جو قربانیاں دی گئی ہیں ان کی ایک طویل فہرست ہے جو ہماری آنیوالی نسلوں کو بجا طور پر شرمندہ کرتی رہیں گی۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ ہم آج اس رونے دھونے میں نہیں پڑیں گے کہ یہ تو ہونا ہی تھا کہ محب وطن حلقے تو شروع سے ہی یہ کہتے آرہے ہیں کہ امریکہ کی دوستی وہ زہرِقاتل ہے جس کا کوئی تریاق نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم قرآنِ پاک کی روشن تعلیمات جو ہمیں واضح طور پر یہ انتباہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ”یہود و نصاریٰ کبھی تمھارے دوست نہیں ہو سکتی’سے انحراف کر کے اس سے بہتر مقام کی توقع رکھ بھی نہیں سکتے تھے جو ہمیں آج حاصل ہی۔
–    لیکن اس سارے معاملے میں جو بات سب سے قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں وہ جمہوریت جس کی افادیت و اہمیت سن سن کر ہمارے کان پک گئے ہیں اور جس کے بارے میں ایک انگریزی کا محاورہ تقریباََ ہر سیاست دان نے رٹا ہوا ہوتا ہے کہ

“the worst democracy is better than the best dictatorship”

کی عملداری کہیں دور دور تک بھی نظر نہیں آتی کیوں کہ جب ہم زمینی حقائق کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو کم از کم پاکستان کی موجودہ صورتحال جہاں پر اس وقت ایک جمہوری حکومت عنانِ اقتدار سنبھالے ہوئے ہے نہ صرف اپنے پیشرو ڈکٹیٹر پرویزمشرف کی پالیسیوں کو ہی جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس سے بھی دو جوتے آگے ہی نظر آتی ہی۔مثلاََ آپ ڈرون حملوں کو ہی لے لیں جو آئے روز ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صِرف ہماری ملکی سا  لمیت کو چیلنج کرتے رہتے ہیں بلکہ یہ ڈرونز ان محب وطن قبائلیوں کو بھی پاکستان کا دشمن بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جن کو بانی پاکستان نے پاکستانی سرحدوں کے بے دام محافظ قرار دیا تھا لیکن دوسری جانب ہماری ”جمہوری حکومت ”اتنی بھی سکت نہیں رکھتی کہ امریکہ کے سامنے اک پرزور احتجاج ہی ریکارڈ کرا دیتی بلکہ ہماری سیاسی قیادت ہمہ وقت قوم کو امریکن ٹیکنالوجی سے ڈرانے میں مصروفِ کار نظر آتی ہے حالانکہ ائرچیف رائوقمر سلیمان بارہا آن دی ریکارڈ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ہمیں حکم دیا جائے تو ہم ڈرون باآسانی گراسکتے ہیں۔
fاور ماضی قریب میں جس طرح حکمرانوں کی طرف سے نامور امریکی ایجنٹ اور سرعا م تین پاکستانیوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو باعزت بری کر دیا گیا اور اب ایبٹ آباد میں جس طرح امریکیوں نے فوج اور سول قیادت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے آپریشن کیا اس پر وزیرِاعظم کی طرف سے بجائے شدید احتجاج کرنے کے اس کو ایک عظیم کامیابی قرار دیتے ہوئے جس طرح مبارکباد دی گئی اس پر پاکستانیوں کو تو جو تشویش ہوئی سو ہوئی خود امریکی بھی حیران رہ گئے ہوں گی۔بالکل اسی طرح جیسے 9/1کے بعد ایک فون کال پر پرویز مشرف نے تمام امریکی مطالبات مان کر پینٹا گون اور وائٹ ہاؤس کو حیران کر دیا تھا۔
لیکن اب بہت ہو چکا قوم ان تماشوں سے عاجز آچکی ہے پارلیمنٹ میں اِن کیمرہ بریفنگ میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا نے سرنڈر کرتے ہوئے خود کو احتساب کیلئے پیش کردیا ہے جو کہ ایک خوش آئند امر اور ہماری فوجی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہی۔صدر آصف علی زرداری حکمران پارٹی کے رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان کے سپریم کمانڈر بھی ہیں اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا یہ کہنا کہ فوج سیاسی قیادت کے فیصلوں کی پابند ہے واضح کرتا ہے کہ گیند اب حکومت کے کوٹ میں ہی۔اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی ایس آئی کے اپنی غیر دانستہ غلطی پر سرنڈر کرنے کے بعد اب سیاسی قیادت بھی اپنی غلطیوں اور( بعض مصلحتوں کی وجہ سی) ایک ڈکٹیٹر کی پالیسیوں کو جاری رکھنے پر قوم کے سامنے سرنڈر کرے کیوں کہ جس طرح آئی ایس ائی پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہے اسی طرح حکومت اور پارلیمنٹ اس عوام کے سامنے بھی جوابدہ ہے جس نے انہیں اس منصب پر پہنچایا ہے اور عوام کی خواہش ہے کہ حکومت امریکہ کی غلامی کا طوق گلے سے اتار تے ہوئے قومی مفاد اور اسلامی جمہوری اور ایٹمی پاکستان کی شایانِ شان پالیسیاں ترتیب دے اور اِس بات سے نہ گھبرائے کہ امریکہ کے سامنے کھڑا ہونے کا کیا ردعمل ہو گا (جیسا کہ مشترکہ بریفنگ کے دوران اس وقت دیکھنے میں آیا کہ جب ائرچیف رائو قمر سلیمان نے کہا کہ حکومت ہمیں حکم دے ہم ڈرون گرا دیں گے تو پارلیمنٹ کو سانپ سونگھ گیا)پوری قوم اس پر حکومت اور اپنی بہادر اور جذبہ جہاد سے سرشار سپاہِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو گی اور ہمیں تاریخ سے یہ لازوال سبق ملتا ہے کہ جس حکومت اور فوج کے ساتھ اس کی قوم کھڑی ہوتی ہے اس کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی سپر پاور بھی زیر ہو جایا کرتی ہی۔اور آخر میں میں ان نام نہاد دانشوروں سے اپیل کروں گا جو اپنی روزی روٹی اور غیر ملکی آقائوں کی خوشنودی کیلئے فوج اور آئی ایس آئی پر کیچڑ اچھال رہے ہیں کہ خدا را وہ فوج اور آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کی امریکی سازش کا حصہ نہ بنیں بلکہ قوم،فوج اور حکومت کو یکجا ہو کر اب امریکہ کو “shut up callدینے پر ابھاریں۔اس ضمن میں جنرل خالد شمیم کی جانب سے دورہ امریکہ ملتوی کرنا بے ” شک عوامی امنگوں کے عین مطابق ہی

If you thought this page is useful to your friend, use this form to send.
Friend Email
Enter your message
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>