Published On: Fri, May 13th, 2011

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات

Share This
Tags

تحریر:جنرل (ر)
مرزا اسلم بیگ

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں موجودہ سرد مہری اور تنا کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ایک وجہ آئی ایس آئی کی جانب سے سابقہ دور حکومت میں سی آئی اے کی تحویل میں دئیے جانے والے علاقوں کی واپسی کا تقاضا ہے جبکہ دوسری وجہ طالبان کی جنگ میں واضح فتح کے بعد قیام امن کیلئے مذاکرات سے پہلے قابض فوجوں کے افغانستان سے نکل جانے کا مطالبہ ہی۔ ان دونوں مطالبات سے دستبردار ہونا پاکستان اور افغانستان کیلئے ممکن نہیں کیونکہ ان کا تعلق براہ راست پاکستان اور افغانستان کی قومی سلامتی اور خودمختاری سے ہی۔ اب یہ امریکہ کی صوابدید پر ہے کہ وہ ان جائز مطالبات پر حقیقت پسندانہ انداز سے غور کرے اور علاقے میں قیام امن کی راہیں تلاش کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کری۔
آئی ایس آئی: آئی ایس آئی اور سی آئی اے دونوں نے مل کر 1982ـ9ء  میں افغانستان پر روسی قبضے کے خلاف جہادیوں کی معاونت کی۔ ان جہادیوں میں پاکستان کے چالیس ہزار جہادی اور دنیا بھر کے ستر سے زائد ممالک سے ساٹھ ہزار جہادی شامل تھی۔ جنرل ضیاء الحق اور انکے چند وفادار ساتھیوں کے علاوہ پاکستان آرمی کا کوئی کردار نہ تھا۔
ڈیورنڈ لائن کے آس پاس کے قبائلیوں نے اس تحریک میں مرکزی کردار ادا کیا اور بتدریج ان جہادیوں کی پہنچ عالمی سطح تک پھیل گئی اور بالآخر وہ روس کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی۔ روسیوں نے اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے ’’پرامن انخلاء ‘‘ کی درخواست کی جسے حکومت پاکستان اور مجاہدین نے ممکن بنایا، کیونکہ اس وقت افغان مجاہدین کے دلوں میں آئی ایس آئی کیلئے بہت عزت تھی جس کی وجہ سے روسی فوجوں کا پرامن انخلاء  ممکن ہوا۔ سی آئی اے نے آٹھ سال تک آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر کام کیا اور آئی ایس آئی کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے خوفزدہ ہوئی کہ جس کے سبب بکھرے ہوئے مجاہدین دنیا کی سپر پاور کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے تھی۔ لہذا روس کی پسپائی کے بعد امریکہ نے مجاہدین سے بے اعتنائی برتتے ہوئے پاکستان پر دبائو ڈالا کہ آئی ایس آئی کا متعلقہ شعبہ بند کر دیا جائی، جسے حکومت نے تسلیم کر لیا اور حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل حمید گل کو ہٹا کر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شمس الرحمن کلو کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ اسکے بعد ادارے میں چھانٹی کا عمل شروع ہوا اور جتنے بھی اہلکاروں کے افغان مجاہدین سے رابطے اور تعلقات تھے ان سب کو نکال باہر کیا۔ آئی ایس آئی کی کارکردگی کو اس عمل سے بہت نقصان پہنچا اور جب 1994ء  میں طالبان ابھرے تو آئی ایس آئی کا کردار محدود تھا۔
2001ء  میں جب پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو طالبان کی نظروں میں پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی دونوں ہی ’’دشمن‘‘ قرار پائی۔ 2003ء  میں امریکہ نے پاکستان پر دبا ڈالا کہ ہمارے قبائلی، افغانی طالبان کے ساتھ کاروائیوں میں ملوث ہیں تو جنرل مشرف نے اس دبا سے گھبرا کر آئی ایس آئی کو سرحدی علاقوں سے نکال لیا اور سی آئی اے اور امریکی میرینز کو سوات سے لے کر بلوچستان تک کے سارے قبائلی علاقوں میں اپنے جاسوسی کے نیٹ ورک قائم کرنے کی کھلی چھٹی دے دی۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ نے افغانستان میں جاسوسی کے مراکز قائم کر لئے تھے اور سی آئی اے کے ساتھ مل کر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ایجنٹ اور مددگار متعین کر دیئے جس کے سبب 2005ء  میں جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا گیا۔ (اس حوالے سے ملاحظہ ہو 14۔ اگست 2007ء  کے روزنامہ نیشن اور نوائے وقت میں شائع ہونے والا میرا مضمون بعنوان: ’’پاکستان کیخلاف عالمی سازشیں‘‘۔ اس وقت سے لے کر اب تک پاکستان ان ایجنٹوں کی سازشی کاروائیوں کے سبب ابھرنے والی دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اپنی ہی قبائلیوں کیساتھ حالت جنگ میں ہی۔
2008ء  میں حکومت کی تبدیلی کے بعد آئی ایس آئی نے قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا ادراک کرتے ہوئے بتدریج اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا اور پھر ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری سے بھارت اور امریکہ کی مشترکہ سازشوں کا بھانڈا پھوٹ گیا، جس سے پاکستان نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث تمام امریکی ایجنٹوں کو ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہی۔ آئی ایس آئی نے تمام سرحدی علاقوں میں دوبارہ اپنا نیٹ ورک قائم کر لیا ہے اور 2004ء  سے اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا شروع کر دیا ہی، جس سے امریکہ کو سخت صدمہ ہوا۔ یہ ایسا وقت ہے جب امریکہ کو افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کیلئے پرامن راستے کی تلاش ہی، لہٰذا ایسے نازک وقت پر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی سے تعلقات بگاڑنا اس کے مفاد میں نہیں، بلکہ ان سے موثر روابط رکھنا ہی بہترین راستہ ہی۔
طالبان: امریکہ نے طالبان سے اپنی شرائط پر بات چیت کرنے کی ہر ممکن کوشش کر کے دیکھ لی ہے کہ کسی طرح ’’طالبان کے بغیر پرامن افغانستان‘‘ کا خواب پورا ہو سکی، لیکن ہمیشہ ناکامی ہی اس کا مقدر بنی ہی۔ پاکستان نے بھی اس خیال کی حمایت کی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ہی غلط راہ پر ہیں، کیونکہ اس ظالمانہ جنگ میں طالبان فاتح بن کر ابھرے ہیں، لہٰذا انہیں کا حق بنتا ہے کہ وہ قیام امن کی شرائط طے کریں نہ کہ شکست خورہ امریکہ اور اسکے اتحادی۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ امریکہ سفارتی تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرلی، جیسا کہ 1989ء  میں روس نے کیا تھا اور اسے افغانستان سے پرامن انخلاء  کا راستہ مل گیا تھا۔ روسیوں کو تو پاکستان کی مدد سے پرامن انخلاء  کا راستہ مل گیا تھا لیکن اب پاکستان کیلئے طالبان سے اپنی بات منوانا ممکن نہیں رہا۔ اسلئے طالبان سے براہ راست مذاکرات ضروری ہیں جو اسی وقت ممکن ہے جب امریکہ افغانستان سے نکلنے کا واضح پیغام دے گا۔
آج کے طالبان اپنے اجداد یعنی989ء  کے مجاہدین سے قطعی طور پر مختلف ہیں کیونکہ طالبان مزاحمت کاروں کی اکثریت 20 سے 30 سالہ نوجوانوں پر مشتمل ہی، جو جنگ کے سایوں میں پلے بڑھے ہیں۔ وہ سخت جان جنگجو ہیں جن کی تمام عمر حالت جنگ میں گذری ہے اور ان کا ایک ہی نظریہ ہے کہ ’’دشمن کو شکست دے کر اپنے ملک کو آزاد کرا۔‘‘ یہ نظریہ ان کیلئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہی۔ ملکی آزادی اور خودمختاری ان کی جدوجہد کا بنیادی عنصر ہی، جس کا اظہار 2002ء  میں ملا عمر نے ان الفاظ میں کیا تھا: ’’ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم جنگ کرینگی، جیتیں گے اور جب ہم آزاد ہوں گے تو آزاد فضا میں آزاد فیصلے کرینگی۔ افغان قوم کیلئے امریکی منصوبے پر عمل کرنا ہماری قومی روایات اور دینی قدروں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہم جنگ جاری رکھیں گے اور انشاء اللہ اپنی آزادی حاصل کر کے رہیں گی۔‘‘ طالبان نے نو سال پہلے جو فیصلہ کیا اس پر لفظ بہ لفظ عمل کر کے اپنی تحریک آزادی کو کامیابی کی بلند منزلوں تک پہنچا دیا ہی۔
ملا عمر اور بزرگ طالبان راہنماں کے دلوں میں پاکستان اور امریکہ کیلئے نرم گوشہ موجود ہی، کیونکہ انہی کی مدد سے روسیوں کو شکست دینے میں کامیابی ہوئی تھی، لیکن ’’سخت گیر طالبان‘‘ امریکہ اور ا سکے اتحادیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان، پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو بھی دشمن تصور کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے افغانیوں کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا ہے جبکہ طالبان نے پاکستان کو کوئی گزند نہیں پہنچائی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملا عمر جو تحریک پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں وہ بھی ان ’’سخت گیر طالبان‘‘ کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔،لہذا امریکہ، اسکے اتحادیوں اور پاکستان کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ طالبان کے ساتھ گفت و شنید کی راہ اپنائیں، جو اس بات پر آمادہ ہیں کہ ’’شمالی اتحاد کے ساتھ مل بیٹھ کر مستقبل کی حکومت کا متفقہ آئین تیار کرینگی۔‘‘ اسکے علاوہ اگر کوئی اور راستہ اختیار کر گیا تو اسکے انتہائی مہلک اثرات مرتب ہوں گی۔
جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو وہ آپس میں انتہائی پراعتماد اور مطمئن ہیں۔ وہ گذشتہ تیس سالوں سے حالت جنگ میں ہیں اور آخری وقت تک جنگ جاری رکھیں گے کیونکہ ان کا ایمان، یقین اور مقصد سے وابستگی انہیں بڑے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتی ہی۔ وہ یہ جنگ جیت چکے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ قیام امن کے خدوخال مرتب کرنے کیلئے کب ان سے مدد طلب کی جاتی ہی۔ پاکستان میں افغانستان کیساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے سوچ تیزی سے ابھر رہی ہے اور آئی ایس آئی اپنے کھوئے ہوئے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے عمل میں کوشاں ہی، جبکہ پاکستان آرمی کا مزاج بھی بدلا ہوا ہی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پارا چنار کے علاقے میں نیٹو اور افغان آرمی کی جانب سے سرحدی خلاف ورزی کے جواب میں انہیں سخت سزا دی گئی ہے اور نیٹو کے پانچ فوجیوں کے علاوہ افغان فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ پاکستان کے ساتھ بامعنی تعلقات کے حوالے سے ان بدلے ہوئے تیوروں کو سمجھنے کی کوشش کرے اور دھونس اور دھاندلی کا راستہ چھوڑ کر امن کی نئی راہیں تلاش کری۔

If you thought this page is useful to your friend, use this form to send.
Friend Email
Enter your message
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>