Published On: Fri, May 13th, 2011

آزادکشمیر الیکشن 2011ء غیر یقینی صورتحال

Share This
Tags

ابن اختر کے قلم سی

آزادکشمیر میں6جون کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوتے ہی سیاسی پارٹیوں میں جوڑتوڑ ،اتحاد ،الحاق اور انتخابی ایڈجسٹمنٹ کیلئے کوششوں نے زور پکڑ لیا ہے ۔سیاسی قائدین ممکنہ نتائج حاصل کرنے کیلئے من پسند اور مطلوب امیدوار وں  کے ناموں کو حتمی شکل دے رہے ہیں پی پی آزادکشمیر اور(ن) لیگ آزادکشمیر دونوں بڑی جماعتوں کیلئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دینے میں مشکلات کا سامنا ہی۔ جو صورتحال منظرعام پر ہے اور جو مشکل سامنے ہے ،ایسا نہیں لگتا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل کرپائے گی لہذا انتخابات کا مرحلہ اگر مشکل ہے تو حکومت سازی میں بھی بڑی مشکلات سامنے آئیں گی۔ مگر یہ بات ضرور ہے کہ بعض سیاسی قوتوں کو یہ صورتحال  بھائے گی اور وہ اس سے بھرپور  فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میںہونگی۔

یہ حقیقت  اپنی جگہ موجود کہ انتخابی دنگل دوسیاسی قوتوں پی پی  پی اور ن لیگ کے درمیان ہوگا اور دونوں جماعتوں کے قائدین واضح اکثریت کے دعوے بھی کر رہے ہیں ۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا ہوا کس رخ چلتی ہے اور اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا ہے اوراقتدار کی ھماکس کے سرپر بیٹھتی ہی۔ اب وقت ہی بتائے گا کہ انتخابات کس انداز میں وقوع پزیر ہوتے ہیں کیا یہ شفاف منصفانہ اور کسی سیاسی مداخلت کے بغیر ہونگے یا پھر ماضی کی طرح دھاندلی کا عنصر غالب رہے گا۔ اس ضمن میں حتمی رائے قائم کرنا قبل از وقت  ہی، ہمارے ہاں کا یہ بھی سیاسی کلچررہا ہے کہ ہر جیتے والا انتخابات کو شفاف قرار دیتا ہے جبکہ بازی ہارنے والا دھاندلی کی رٹ لگاتا پھرتا ہے ۔ہاں بات ہورہی تھی انتخابات کے شفافیت کی توشفاف الیکشن کیلئے شفاف فرستوں کا ہونا بھی ضروری ہی۔جن فہرستوں کی بنیاد پر انتخابات ہونے ہیں اور اگر وہ بنیادی دستاویزہی غلطیوں کا پلندہ ہوتو شفافیت تو دور کی بات انتخابات کا انعقاد بھی مشکل ہے ۔ الیکشن کمیشن آف آزادکشمیر کی کارکردگی ملاخطہ ہو آزادکشمیر اور مہاجرین حلقوں کی کم وبیش تمام 41حلقوں کی

فہرستوں میں غلطیوں کے انبار ہیںکہیں نام کی غلطی ہے اورکہیں ولدیت ،پتہ اور رشتوں کو غلط انداز میں درج کیاگیا ہے جو انتہائی افسوس ناک امر ہے ۔کیا الیکشن کمشن کا عملہ صرف خوش گھپیوں اور چھٹیاں انجوائے کرنے کیلئے بھرتی کیا جاتا ہے اور آفیسران کیلئے غیر ملکی کو رسز کی سہولتوں کیلئے ہی اس کمیشن کا قیام عمل میں لایاگیا ہیَ اگر ایسا ہے تو پھر سب اچھا ہے اور یہ عملہ درست کام کررہا ہے یہ بات اپنی جگہ موجود کہ آزادکشمیر کے ووٹرز کی فہرست پہلے ہی غلطیوں اور جعلی ووٹوں سے مزین تھی اس میں مزید ترقی  یہ ہوئی کہ اس بار فہرست کو غلطیوں سے بھرپورکردیاگیا ہے ۔ اگر بات کی جائے مہاجرین کے حلقوں کی تو اس میں بھی کوئی مبالغہ یاغلط بیانی نہ ہوگی کہ ان حلقوں کی فہرستوں میں ڈبل انٹری ووٹوں کی بہتات  ہونے کے ساتھ ساتھ بوگس ووٹ بھی موجود ہیں۔ اکثر امیدواروں نے اپنی جیت کو یقینی بنانے کیلئے مقامی سیاسی وابستگی کی بناپر بوگس  ووٹوں کا اندراج کروارکھا ہی۔ اگر آزادکشمیر میںانتخابات کو واقعی شفاف بنانا مقصود ہے توسب سے پہلے ووٹر فہرستوں کی درستگی کو یقینی بناناہوگا ۔اگرانتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے بعد عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کی طرح پرانی ہی فہرستوں پر اکتفا کرتے ہوئے انتخابی دنگل رچانا مقصود ہے تو پھر الیکشن کمیشن آف آزادکشمیر کے وجود کی ضرورت باقی نہیںرہتی، انتخابی عمل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی زیر نگرانی مقامی انتظامیہ کی مدد سے ممکن بنایا جاسکتا ہی۔

بات ہورہی تھی سیاسی جوڑ توڑاور ممکنہ انتخابی نتائج کی ایک بات تو واضح ہے کہ انتخابات میں معرکہ ن لیگ اور پی پی پی میں ہوگا لیکن حکومت سازی میںجو عنصر کام کرے گا وہ پٹاہوا گھوڑا ہے جو اپنی چند نششتوں کے عوض بڑا فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میںہوجائے گا۔ جی ہاں سردار عتیق احمد خان کی مسلم کانفرنس جو چندسیٹیں تو حاصل کرلے گی مگر حکومت سازی کی پوزیشن میںنہ ہوگی لیکن سردار عتیق اپنی چند سیٹوں کو پی پی پی کے پلڑے میں ڈالنے کو فوقیت دینگے جبکہ بذریعہ وزیر امورکشمیر منظور وٹو یہ معاملات طے بھی پاچکے ہیں ۔سردار عتیق اس وزن کے عوض آزادکشمیر کی صدارت کے متمنی ہیں اور بونس میں اپنے آبائی حلقی

سے سیٹ خالی کرکے اپنے سپوت سردار عثمان عتیق کو اسمبلی کے ایوان میں پہنچادینگی۔ وہ کہتے ہیں نہ ہنگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا ہو،سردار عتیق احمد خان کی تولاٹری ہی نکل آئے گی، انگلیاں گھی میں اور سرکڑاہی میں کے مصداق سردار عتیق صدارت کا منصب جلیلہ حاصل کرسکنے میں کامیاب ہوجائیںگی۔ پی پی پی اگرانتخابی معرکہ مارتی ہے تو وزارت عظمیٰ کیلئے بیرسٹرسلطان محمودمضبوط امیدوار ہیں گو کہ پی پی پی میں اس عہدے کیلئے کم ازکم چار امیدوار میدان عمل میں سرگرداں ہیںلیکن اگر عوامی حمایت سے ن لیگ انتخابی  میدان مارلیتی ہے تو سرار عتیق کی صدارت اور بونس جاتا رہے گا کیونکہ مسلم کانفرنس اور ن لیگ میں اتحاد اور حکومت سازی ممکن نہیں ،کسی نے خوب کہا ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں، دوستی اور دشمن مفادات سے وابستہ ہوتی ہے جہاں تک آزادکشمیر میں ایم کیو ایم کا معاملہ ہے تو وہ اپنا ووٹ حکومت  بنانے والی جماعت کے حق میں استعمال کر یگی اورحکومت  میں اپنا حصہ  بھی حاصل کرے گی ۔جماعت اسلامی اور جمو ںکشمیر پیپلزپارٹی بمشکل ایک ایک نشست حاصل کرپائے گی، اب دیکھنا یہ ہے کہ پی پی پی اور ن لیگ کی قیادت ٹکٹوں کی تقسیم میںکس حدتک بہتر فیصلے کرپاتی ہے ۔ انتخابی جیت اور ہار پر یہ عنصر بھی غالب رہے گا لیکن آزادکشمیر الیکشن011ء میں بہت

“upsets”

سے  بھی ہوسکتے ہیں۔

If you thought this page is useful to your friend, use this form to send.
Friend Email
Enter your message
    Print This Post Print This Post

Leave a comment

XHTML: You can use these html tags: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>